اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایام حج کے موقع پر اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے اپنے جاری کردہ پیغام میں کہا ہے کہ یہ حج جو ’حج ابراہیمی‘ کے نام سے معروف ہے اس کے ہر ایک رکن میں حضرت ابراہیم جو پرچمدار توحید تھے کا وجود جلوہ نمائی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔
آیت اللہ رضا رمضانی نے کہا کہ حضرت ابراہیم حقیقت میں ایک امت تھے جنہوں نے بت پرستی اور استکباریت کے مقابلے میں ایک نہضت قائم کر دی، ابراہیم پہلے مسلمان تھے ابراہیم مقام امامت پر فائز تھے اس کے بعد کہ اللہ نے ان کا سخت امتحان لیا اور وہ ہر امتحان میں کامیاب ہوئے تو پروردگار عالم نے انہیں مقام امامت پر فائز کیا۔
انہوں نے مزید کہا: حضرت ابراہیم خانہ خدا کے خدمتگزار تھے، وہ کعبہ کے معمار اور بانی تھے، ابراہیم حکم خدا کے سامنے تسلیم محض تھے وہ محبوب خدا تھے، ابراہیم حلیم اور بردبار تھے، ابراہیم بت شکن تھے ابراہیم پر خدا نے اپنا مخصوص سلام کیا، ابراہیم مہمان نواز اور بڑے سخی تھے، اللہ کے شکرگزار اور سچے بندے تھے، اپنے وعدے کے پابند اور اللہ پر بھروسہ اور توکل کرنے والے تھے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے حج کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حج تمام اسلامی امتوں کے درمیان بین الاقوامی سطح پر رابطہ برقرار کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ اقوام عالم اپنی گوناگوں ثقافتوں کے ساتھ ایک میدان میں اکٹھا ہوتے ہیں اور ایک عظیم عالمی اجتماع کو وجود میں لاتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ حج سے ہمیں للاہیت کا درس حاصل کرنا چاہیے کہا کہ حج ایسی جگہ ہے جہاں صرف تصور خدا پایا جاتا ہے جہاں اللہ کی جانب سے دعوت ہوتی ہے اور انسان مسلسل ندائے الہی پر لبیک کہتے ہوئے خود کو بارگاہ خداوندی میں محسوس کرتا ہے۔
آیت اللہ رمضانی نے کہا: حج امت اسلامی کے اتحاد کا باعث بننا چاہیے دشمنوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف کا بیج بوئیں اور انہیں ایک دوسرے سے دور کر کے ایک دوسرے کا جانی دشمن بنائیں۔
انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ اختلاف مسلمانوں کی کمزوری کا سبب بنتا ہے کہا حج سے مسلمان فائدہ اٹھا کر اپنے سیاسی، سماجی، معاشرتی اور ثقافتی میدانوں میں اکٹھا ہو سکتے ہی۔
انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہ اس سال کورونا وائرس کی وجہ سے امت مسلمہ حج کی عظیم نعمت سے محروم ہو گئی کہا کہ اگر متعلقہ حکومت صحیح منصوبہ بندی کرتی تو دنیا کے تمام اسلامی ممالک سے محدود تعداد میں مسلمانوں کو حج بیت اللہ کی دعوت دے سکتی تھی لیکن افسوس کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔
..............
242